Breaking News

Sniper Novel Episode 13 by Riaz Aqib Kohlar

Sniper Novel Episode 13 by Riaz Aqib Kohlar

Sniper Novel Episode 13 by Riaz Aqib Kohlar Free Download

Read Online and Free Download Sniper Novel Episode 13 by Riaz Aqib Kohlar in PDF format.You can Download Sniper Novel Episode 13 by Riaz Aqib Kohlar in PDF Format and Click the below link and Read this Book Online.
PakiBooks Provide Free Urdu Books, Urdu Digests, Magazines, Jasoosi Novels, Social Books, Urdu Novels, Books of Kids, Latest Serial Novels, Computer Books, Educational Books, Health Books, Ibne Safi Novels, Imran Series, Ispecter Jamshed Series, Ishtiaq Ahmed Novels, Islamic Books, Khaufnak Novels, Poetry Books, Safarnama Books, Tanzo Mazah Books, Funny Books, and All Kind of Urdu Books…
PakiBooks Contain Latest Urdu Digests and Magazines Like Shuaa Digest, Jasoosi Digest, Sarguzasht Digest, Suspense Digets, Kiran Digest , Rida Digest, Hina Digest, Pakeeza Digest and Many More.. Click Here to Get Latest Digests and Magazines.
We try our best to make PakiBooks a large number of Urdu Society.Please Give Feedback.Thanks
Sniper Novel Episode 13 by Riaz Aqib Kohlar Information are the Given Below :
Sniper Novel Episode 13 by Riaz Aqib Kohlar Free Download and Read online.You Can Download Sniper Novel Episode 13 by Riaz Aqib Kohlar directly and Read Sniper Novel Episode 13 by Riaz Aqib Kohlar online.Thank you

 TitleSniper Novel Episode 13
AuthorRiaz Aqib Kohlar
LanguageUrdu
Posted ByPakiBooks
AdminM Anas Akram
Urdu Title

سنائپر ناول قسط نمبر13 از ریاض عاقب کوہلر

Below Read Online Sniper Novel Episode 13 by Riaz Aqib Kohlar :

سردار رات گئے ہی واپس لوٹا تھا ۔اس کی آمد سے پہلے ہی میں سو گیا تھا ۔صبح ہی اس سے ملاقات ہو پائی تھی ۔چنارے بیگم کی رفاقت نے اس سے دل سے لی زونا کے بچھڑنے کے غم کو کافی حد تک کم کر دیا تھا ۔
ہم دو تین دن ہی آرام سے گزار پائے تھے کہ یونٹ کو ایک نئی سر گرمی کا لیٹر ملا ۔شمالی اور جنوبی وزیرستان میں تعینات ڈویژنز نے اپنی زیر کمان یونٹوں میں سنائپرز کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے ہمارے کمانڈنگ آ فیسرسے انسٹرکٹر ز طلب کیے تھے ،اس کے علاوہ حساس علاقوں میں تعینات کرنے کے لیے کچھ تجربہ کار سنائپرز بھی مانگے تھے کیونکہ دہشت گردوں کے بہت سے سنائپرز پاک آرمی کا کافی نقصان کر چکے تھے ۔مجھے امید تھی بھیجے جانے والے سنائپرز میں میرا نام ضرورشامل ہوگا ۔مگر دو دن بعد انسٹرکٹرز کے طور پر راﺅ تصور صاحب اور حوالدار فیاض کا چناﺅ ہوا تھا جب کہ سنائپنگ کے لیے سردار خان، اسدخٹک ،بشیر حیدر ،عصمت اللہ جان اور سہیل مروت کا انتخاب کیا گیا تھا ۔

ان کے جانے کے دوسرے دن مجھے پتا چلا کہ اس پارٹی میں میرا قرعہ فال کیوں نہیں نکلا تھا ۔ مجھے دوبارہ انڈین سرحد پار جا کر ایک اور ہدف کو نشانہ بنانا تھا ۔اس بار میرے ساتھ حوالدار نصیرالدین جا رہا تھا ۔وہ یوں بھی مجھ سے سینئر تھا ۔مشن کی تفصیلات ہمیں یونٹ سیکنڈ ان کمانڈ کی زبانی سننے کو ملیں تھیں ۔ٹو آئی سی صاحب نے کانفرنس روم میں ہمیں بریفنگ دی ۔پچپن انچ کی بڑی ایل ای ڈی پر ہمیں ہدف کی تصاویر ،اس کے علاقہ اور اسے قتل کرنے کی تفصیلات پر روشنی ڈالی۔سرحد عبور کرنے کے مقام کا بھی سرسری ذکر انھوں نے کر دیاتھا،ویسے اس علاقے میں سرحد پار کرنا عمومی طور پر ہماری اپنی صو ابدید پر ہوتا ہے۔ٹو آئی سی کی بریفنگ کے بعد اگلا پورا ہفتہ ہم ہندی زبان کے وہ مشہور الفاظ سیکھنے میں مصروف رہے جو اردو میں مستعمل نہیں ہیں ۔یوں بھی اردو اور ہندی کے رسم الخط مختلف ہونے کے باوجودبولنے میں دونوں زبانیں قریباََ مماثل ہیں ۔بلکہ پاکستان میں انڈین فلموں،ڈراموں اور کارٹونز وغیرہ کے بڑھتے ہوئے رجحان نے ان خالص ہندی الفاظ کو بھی نامانوس نہیں رہنے دیا ۔البتہ عام بول چال میں ہم وہ الفاظ استعمال نہیں کرتے ۔   

اس کا نام رنجیت چوپڑہ تھا ۔ اس کی شخصیت اتنی اہم نہیں تھی کہ اسے قتل کرنے کے لیے خصوصی طور پر پاکستان سے سنائپرز بھیجے جاتے ،بس انا کا مسئلہ آڑے آ گیا تھا ۔وہ شخص پاکستان میں دو مرتبہ دہشت گردی کی واردات کرنے کے بعد بھی صاف بچ کر نکل گیا تھا۔اس کے خلاف سارے ثبوت ملنے کے بعد پڑوسی ملک سے اس کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا مگر ایسی بات اگر بنیا مان جائے تو اسے بنیا کون کہے ؟اور مزے کی بات یہ کہ وہ کسی سرکاری ایجنسی یا انڈین آرمی کا فرد نہیں بلکہ کرائے کا ٹٹو تھا ۔ انڈین حکومت کی ہٹ دھرمی کو دیکھ کر ہائی کمان کی طرف سے یہی حکم آیا تھا کہ اس شخص کو زندہ رہ کر پاکستان میں کرنے والی دہشت گردی کی کارروائی پر ملنے والے انعام سے مستفید نہیں ہونے دیا جا سکتا ۔ یوں بھی دو مرتبہ معصوم لوگوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے ،بلکہ ہندومحاورے کے مطابق معصوم لوگوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے کو یہ دہری دہشت گردی اندرونِ خانہ بہت زیادہ کامیاب کر گئی تھی۔اور اب تو وہ باقاعدہ سیاست میں حصہ لینے پر پرتول رہا تھا ۔پاکستانی حکومت کی طرف سے رنجیت چوپڑہ کے مطالبے کا ایک نقصان یہ ہوا تھا کہ اس شخص کی حفاظت کا خاطر خواہ انتظام کر دیا گیا تھا ۔ انڈیا میں پاکستانی جاسوسوں کی موجودی یقینی ہونے کے باوجود یہ کام ان سے نہیں لیا جاسکتا تھا ۔کیونکہ ایک تو پاکستانی جاسوس ایسی دہشت گردانہ کارروائیوں سے عمومی طور پر دور رہتے ہیں جن سے سوّل عوام یا معصوم لوگ متاثر ہوں ۔ ان کا غیر مسلم ہونااس بات کو لازم نہیں کرتا کہ انھیں جینے کا حق نہیں ۔اسلام اس بات کی قطعی اجازت نہیں دیتا کہ کسی بھی مذہب یا مسلک کے بے گناہ افراد کو قتل کر دیا جائے ۔ دوسراوہ جاسوس لڑائی بھڑائی کے چکر میں ذرا کم کم ہی پڑتے ہیں ۔یوں بھی ان میں زیادہ تعداد ان افرادکی ہوتی ہے جو لڑائی بھڑائی کے فن سے نا آشنا ہوتے ہیں۔ انھی وجوہات کو دیکھ کر یہ ہدف ایک سنائپر کے حوالے کر دینے کا فیصلہ کیا گیا اور اس کے لیے ہم دونوں کا انتخاب ہوا تھا۔
وہ یونٹ میں ہماری آخری رات تھی صبح سویرے ہم نے کشمیر روانہ ہونا تھا کہ سرحد پار کرنے کے لیے پہاڑی علاقہ ہی مناسب تھا ۔رات کوئی بارہ بجے کا عمل ہو گا جب ڈیوٹی پر متعین سپاہی نے مجھے جگا کر بتایا کہ کمانڈنگ آفیسر مجھے اپنے آفس میں یاد کر رہے ہیں ۔میں نے جلدی سے غسل خانے میں گھس کر منہ پر چند چھینٹے پانی کے مارے اور منہ پر تولیہ رگڑ کر کمانڈنگ آفیسر عرفان ملک کے آفس کی طرف بڑھ گیا ۔استاد نصیرالدین بھی مجھے اپنے کمرے سے نکلتا دکھائی دیا ۔یقینا اسے بھی طلب کیا گیا تھا۔مجھے دیکھ کر وہ سر ہلاتے ہوئے میرے ساتھ چل پڑا ۔

کمانڈنگ آفیسر کے اردلی نے ہمیں دیکھتے ہی کہا کہ کمانڈنگ آفیسر بے تابی سے ہمارے منتظر ہیں ۔اور ہم سر ہلاتے ہوئے دفتر میں داخل ہو گئے ۔
”آگئے آپ لوگ ۔“ہم پر نظر پڑتے ہی اس نے سامنے پڑے لیپ ٹاپ کو ایک طرف دھکیلتے ہوئے خوش دلی سے کہا۔”بیٹھیں ۔“
اور ہم دونوں آفس ٹیبل کے سامنے پڑی فوم والی کر سیوں پر بیٹھ گئے ۔
”تو جانے کے لیے تیار ہو ؟“عرفان صاحب نے مسکرا کر پوچھا ۔
”جی سر !“ہم بیک زبان بولے تھے ۔
”اچھا آپ لوگوں کو اس وقت بلانے کا مقصد یہ ہے کہ جانے کی ترتیب میں تھوڑی تبدیلی کر نا ناگزیر ہو گئی ہے۔اب دو کے بجائے صرف ایک سنائپر نے جانا ہے تو آپ دونوں میں سے کون زیادہ تیار ہے ۔“کمانڈنگ آفیسر نے انتخاب کی ذمہ داری ہمارے سر پھینکی ۔
ہم دونوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور پھر میں نے گلا کھنکھارتے ہوئے دبے لفظوں میں کہا ۔
”سر!…. استاد نصیر الدین گو مجھ سے سینئر ہیں اور ہر لحاظ سے بہتر بھی ہیں ،مگر اس مشن پر سرحد پار جا کر ہمیں ڈریگنوو سنائپر رائفل ہمارے حوالے کی جانی تھی اور اس رائفل کو میں استعمال کر چکا ہوں اور بدقسمتی سے استاد نصیرالدین کو اس سے پہلے ڈریگنوو رائفل استعمال کرنے کا موقع نہیں مل سکا ۔“
”یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے سر !“استاد نصیرالدین نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے میری بات کی تردید کی ۔”ذیشان بلاشبہ ایک اچھا نشانے باز ہے ۔مگر ہندی زبان پر مجھے اس سے زیادہ عبور ہے اور اس سے پہلے ایک مشن پر میں انڈین سرحد عبور کر کے قریباََ ایک ماہ وہاں رہ بھی چکا ہوں ۔“
کمانڈنگ آفیسر ملک عرفان کے چہرے پر خوب صورت مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔”آپ دونوں کا جذبہ قابل ِ تعریف ہے اور مجھے فخر ہے کہ مجھے آپ جیسے ماتحت ملے ہیں کہ ماہر فن ہونے کے ساتھ جن میں وطن کی خدمت اور محبت کا جذبہ بھی کوٹ کوٹ کر بھرا ہے ۔بہ ہر حال میں جانتا ہوں کہ اس مشن کے لیے آپ دونوں ایک بہترین انتخا ب ہیں پھربھی میں یہ ذمہ داری ذیشان کے کندھوں پر ڈالتا ہوں ….اور حوالدار نصیرالدین !….آپ صبح میجر وسیم سے مل کر نئے مشن کی تفصیلات معلوم کر لیں آپ کے پاس تیاری کے لیے فقط دو دن ہیں ۔“
”جی سر !“حوالدار نصیرالدین کا چہرہ جوکمانڈنگ آفیسر کی پہلی گفتگو پربجھ سا گیا تھا ایک دم کھل اٹھا ۔
”فی امان اللہ !….“عرفان صاحب نے کھڑے ہو کر ہم دونوں سے معانقہ کیا اور پھر دفتر کے دروازے تک ہمیں رخصت کرنے بھی آئے ۔
ان کے دفتر سے نکل کر ہم دونوں استاد نصیر کے کمرے میں آ گئے ،وہاں وہ مجھے علاقے کے بارے ضروری ہدایات دینے لگا ۔گو اس سے پہلے علاقے کے بارے ضروری باتیں ہمیں ٹو آئی سی میجر وسیم تفصیل سے بتا چکے تھے ۔لیکن استاد نصیر چونکہ علاقے سے زیادہ واقفیت رکھتا تھا اس لیے وہ اہم باتوں پر دوبارہ روشنی ڈالنے لگا ۔رات کا بقیہ حصہ میں نے استاد نصیرالدین سے اس سے علاقے کے بارے ضروری معلومات حاصل کرتے گزارا ۔صبح کی آذان کے ساتھ ہم نے مسجد میں جاکر نماز ادا کی اور پھر ناشتا کر کے میں جانے کے لیے تیار تھا ۔آخری دم تک استاد نصیرالدین کی نصیحتیں جاری رہیں ۔سردار خان اور میرے محترم استاد راﺅ تصور تو یوں بھی وزیرستان جا چکے تھے ۔
بس میں بیٹھ کر میں نے ابوجان اور پھوپھو سے چند منٹ بات کی لیکن انھیں اصل بات نہیں بتائی تھی ۔اس کے بعد استاد عمر دراز بات کی ۔ انھیں البتہ میں نے تمام بات بتا دی تھی ۔دو تین مفید مشوروں کے ساتھ انھوں نے ڈھیروں دعائیں دیں۔ رابطہ منقطع کر کے میں نے بس کی سیٹ سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر لیں ۔دوست احباب کی صورتیں کسی فلم کی طرح میری آنکھوں میں گھومنے لگیں ۔ان میں ماہین کی شکل بھی شامل تھی جانے کیوں وہ بے وفا وقت بے وقت یاد آنے لگتی ۔بہت مختصر وقت کے لیے وہ میری زندگی میں آئی تھی اور اس سے میں نے بہت زیادہ محبت کی تھی مگر اب وہ محبت نفرت میں ڈھل گئی تھی ۔بلکہ وہ کیا مجھے تو عورت ذات ہی سے سخت قسم کی نفرت ہوگئی تھی لیکن اس کے باوجود اکثر اوقات تنہائی میں اس کے ساتھ گزارا وقت بے طرح یاد آنے لگتا ۔بھروسے کا ٹوٹنا بعض اوقات انسان ہی کو توڑ دیتا ہے ۔اس کی بے وفائی اور بد کرداری نے مجھے بھی توڑ دیا تھا ۔اب تو بس دل میں وطن کی خدمت کے علاوہ کوئی تمنا ،کوئی خواہش باقی نہیں رہی تھی ۔ پہلے میں سوچا کرتا کہ جانے کب میری نوکری کی مدت پوری ہو گی اور میں ماہین کے ساتھ اپنی زندگی کے بقیہ ایام گزاروں گا ۔اور اب نوکری کی میعادپوری ہونے کے خوف سے دل مسوس کر کے رہ جاتا کہ اس کے بعد میری زندگی کا کیا مصرف ہو گا ۔ ہر انسان کی زندگی کے ساتھ مختلف رشتے جڑے ہوتے ہیں اور ان میں سب سے پائیدار رشتا اولاد کا ہوتا ہے لیکن اولاد بھی بیوی کے واسطے ہی سے انسان کی زندگی شامل ہوتی ہے گویا اصل رشتا میاں اور بیوی کا ہوتا ہے ۔قرآن مجید فرقان حمید میں بھی رب کریم نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا گویا مرد کے لیے اپنی عورت اور عورت کے لیے اپنے مرد سے بڑھ کر کوئی قریب نہیں ہوتا ۔نبی پاک ﷺ کو اپنی چاروں بیٹیوں سے بہت زیادہ محبت تھی ۔خصوصا سیدہ فاطمہ ؓ پر تو آپ خصوصی شفقت فرمایا کرتے اس کے باوجود اس جہان فانی سے رخصت ہوتے وقت آپﷺ کا مبارک سر مومنوں کی ماں امی جان سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی مقدس گود میں تھا ۔بیوی کا رشتا اتنا خوب صورت ،اتنا مفید اور اتنا پیارا ہے کہ اس کے مقابل کوئی رشتا پیش نہیں کیا جا سکتا ،لیکن میرا اس مقدس رشتے پر سے اعتبار اٹھ گیا تھا ۔میں چاہ کر بھی عورت پر اعتبار نہیں کر سکتا تھا ۔آج کل تو میں جہاں کوئی لڑکی دیکھتا میری آنکھوں میں خون اتر آتا ۔اور عجیب بات یہ تھی کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ نفرت بڑھتی جا رہی تھی ۔ہزاروں دلائل اور ہزاروں تاویلات کے باوجود میں عورت کی طرف مائل نہیں پا رہا تھا ۔میں ٹھنڈے دل و دماغ کا انسان ہوں اور اپنے جذبات و غصے پر قابو پانے میں بھی زیادہ تر کامیاب ہی رہتا ہوں ۔ماہین کو غیر مرد کی آغوش میں دیکھ کراگر میں اسے قتل بھی کر دیتا تب بھی یقینا میں حق بہ جانب ہوتا کہ عموماََ اس قسم کے معاملے میں مرد حضرات یونھی کیا کرتے ہیں ۔بلکہ کچھ عیار مرد تو اپنی بے گناہ بیویوں سے جان چھڑانے کے لیے بھی ان کی جھوٹی بے راہ روی کا ڈراما ترتیب دے کر انھیں جان سے مار دیتے ہیں ۔لیکن میں ایسا نہیں کر سکا تھا اوراب اپنے صبر و حلم پر پچھتا رہا تھا ۔میں خودکو تنہائی میں کوسنے لگتا کہ میں نے سراسر بزدلی اور بے وقوفی کا ثبوت دیا تھا ۔مجھے ان دونوں کو اتنے آرام سے نہیں جانے دینا چاہیے تھا۔کم از کم ان دونوں کی اچھی طرح پٹائی تو کر ہی سکتا تھا ۔میں کافی دیر انھی سوچوں میں سرگرداں رہا یہاں تک کہ بس ایک طویل فاصلہ طے کر کے باغ پہنچ گئی ۔باغ سے چھتردو کا فاصلہ سات آٹھ کلومیٹر تھا اور مجھے وہیں پاک آرمی کی ایک یونٹ میں رات گزارنا تھی ۔باغ سے چھتر دو کے لیے ویگنیں اور ڈاٹسن وغیرہ دن کے وقت دستیاب ہوتی ہیں ۔ایک ویگن میں بیٹھ کر میں چھتر دو پہنچا ۔ویگن سے اترتے ساتھ مجھے روڈ کے کنارے ایک گیٹ پر پاک آرمی کا جوان ڈیوٹی پر کھڑا نظر آیا ۔اس سے مطلوبہ یونٹ کے بارے معلومات لے کر میں اس سمت کو بڑھ گیا ۔مطلوبہ یونٹ کے گیٹ پر اپنا تعارف کرانے پر اس نے میرا سروس کارڈ دیکھ کر میری پہچان کو یقینی بنایا اور پھر مجھے گیٹ پر بنے استقبالیہ کے کمرے میں بٹھا کر اپنے سینئر سے بات کرنے لگا ۔تھوڑی دیر بعد رجمنٹ پولیس کا حوالدار وہاں پہنچ گیا ۔اسے بھی میں نے اپنی آمد کا مقصد بتائے بغیر کسی ذمہ دار آفیسر سے ملوانے کی درخواست کی ۔وہاں ان کی یونٹ کا ریئر تھا ۔باقی کی یونٹ آگے پوسٹوں پر لگی ہوئی تھی ۔البتہ آفیسر میس میں ایک کیپٹن صاحب موجود تھا جو غالباچھٹی سے واپس آیا تھا ۔رجمنٹ پولیس کے حوالدار نصراللہ نے انٹرکام پر آفیسر سے بات کر کے مجھے وہیں لے گیا ۔
کیپٹن کا شف اس یونٹ کا کواٹر ماسٹر صاحب تھا ۔پرتپاک انداز میں مصافحہ کر کے اس نے مجھے بیٹھنے کو کہا ۔
میرے نشست سنبھالتے ہی وہ حوالدار کی طرف متوجہ ہوا ۔”نصراللہ !….آپ جائیں اور چاے وغیرہ کا میس ویٹر کو بتا دو ۔“
”جی سر !“کہہ کر نصراللہ سیلوٹ کرتا ہوا باہر نکل گیا ۔
”جی راجا ذیشان حیدر !…. بتائیں کیا مسئلہ ہے ۔“
اس مرتبہ میں نے جیب سے خفیہ چٹھی نکال کر اس کی طرف بڑھا دی ۔چٹھی پڑھ کر وہ گہری سوچ میں کھو گیا ۔چند لمحے سوچنے کے بعد وہ میری جانب دیکھتے ہوئے مستفسر ہوا ۔

”ویسے کیا آپ سرحد پار جانے کے مقصد پر روشنی ڈال سکتے ہیں ۔“
میرے ہونٹوں پر مدھم سے مسکراہٹ نمودار ہوئی اور میں نے منہ سے کچھ کہنے کے بجائے نفی میں سر ہلادیا ۔
”ہونہہ!….“کہہ کر اس نے اثبات میں سر ہلایا اور فون اٹھاکر بٹالین میں رابطہ کرنے لگا ۔ چند سیکنڈز بعد وہ اپنے کمانڈنگ آفیسر سے محو گفتگو تھا ۔اس نے میرا نام وغیرہ ہی بتایا تھا کہ اسے آگے سے ہدایات ملنے لگیں یقینا انھیں بذریعہ فون یا چٹھی پہلے سے میری آمد کے بارے مطلع کر دیا گیا تھا ۔وہ خاموشی سے کمانڈنگ آفیسر کی باتیں سنتا رہا ۔درمیان میں وہ ”جی سر ۔“اور ”ٹھیک ہے سر ۔“کہہ کر تائید بھرے انداز میں اپنا سر ہلاتا رہا ۔ جونھی دوسری جانب سے بات مکمل ہوئی اس نے رسیور رکھ دیا ۔اسی وقت میس ویٹر چاے کے برتن لیے اندرداخل ہوا ۔چاے پینے کے دوران ہی اس نے حوالدار نصراللہ کو بلا کر مجھے مہمان خانے میں سلانے کا حکم دیا اور مجھے بتایا کہ میں نے اگلی صبح اس کے ہمراہ بٹالین ہیڈکواٹر جانا تھا ۔چاے پی کر میں کیپٹن کاشف سے مصافحہ کر کے آفیسر میس سے نکل آیا ۔وہ رات میں نے مہمان خانے میں گزاری ۔اگلی صبح میں نے کیپٹن کاشف کے ساتھ ان کے بٹالین ہیڈکواٹر جانا تھا جو وہاں سے کم از کم بائیس ،تیئس کلومیٹر آگے تھا ۔
٭٭٭
چاند کی انیس ،بیس تاریخ تھی ۔چاند نکلتے ہی میںآگے جانے کے لیے تیار تھا ۔میں دو دن پہلے وہاں پہنچا تھا۔ بہادر کیمپ میں کمانڈنگ آفیسر سے میری تفصیلی بات چیت ہوئی تھی ۔ایک رات بہادر کیمپ میں گزار ی اگلا سارا دن اس بٹالین کا انٹیلی جنس آفیسر مجھے وہاں بارڈر پر تعینات اپنی اور دشمن کی پوسٹوں کی جگہ کے بارے تفصیل سے بتاتا رہا تھا۔نقشے پر بھی اس نے مجھے باریکی سے سمجھادیا تھا ۔اس سے اگلے دن وہ مجھے لے کر کیدیٰ گلی پہنچا جہاں سے میں نے سرحد عبور کرنا تھی ۔کیدیٰ گلی کا علاقہ بھی اسی بٹالین کی حدود میں آتا تھا ۔بہادر کیمپ سے قریباََ چھے ساتھ کلومیٹر دور تھا ۔
رات کا کھانا کھا کر میں نے عشاءکی نماز باجماعت ادا کی اور پھر سرحد پار کرنے کے لیے ضروری کارروائیاں کرنے لگا ۔
اپنے ساتھ میں صرف ایک پستول لے کے جا رہا تھا ۔گلاک نائینٹین ایک اعلا قسم کا پستول ہے۔وزن میں ہلکا جسمامت میں مختصر اور کارکردگی میں بہت عمدہ ۔دنیا بھر میں پائے جانے والے پستولوں میںایک نمایاں مقام رکھتا ہے ۔ڈریگنوو رائفل مجھے وہیں سے ملنا تھی ۔
اس بٹالین کاانٹیلی جنس آفیسر میرے ساتھ بارودی سنگی قطے تک چل کر آیا تھا ۔اس کے ساتھ اس پوسٹ کا کمانڈر میجر مزمل بھی تھا ۔اس جگہ سے گزرنے کے رستے کی نشان دہی کر کے انھوں نے الوداعی معانقہ کیا ۔
”ذیشان !….اللہ پاک تمھیں کامیاب کرے اور خیریت سے لوٹو ۔“دعائیہ انداز میں میرا کندھاتھپتھپا کر انھوںنے مجھے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا ۔اور خود وہیں کھڑے ہو کر میری حرکت کی نگرانی کرنے لگے ۔
بارودی سرنگی قطے کو عبور کرتے ہی میں نے پیچھے دیکھ کر ہاتھ لہرایا ۔وہ ہیولوں کی طرح دکھائی دے رہے تھے ۔مجھ پر نظر رکھنے کے لیے انھوں نے اپنی آنکھوں سے شب ِ دیدعینک لگائی ہوئی تھی ۔میرے ہاتھ کے جوا ب میں انھوں نے بھی جواباََ ہاتھ لہرا دیے۔میں آہستہ آہستہ نیچے اترنے لگا ۔فروری کا مہینا اختتام پذیر ہونے کو تھا لیکن اس علاقے میں سردی عروج پر تھی ۔برف نے سارے پہاڑوں کو سفیدی کی چادر اوڑھا دی تھی ۔میں مکمل تیاری کے ساتھ آگے روانہ ہوا تھا مگر میرے پاس موجود سامان میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں تھی جو پاک آرمی میں استعمال کی جاتی ہو ۔بوٹ ،دستانے ،جرابیں ،گرم ٹوپی سے لے کر میرے پہننے والے کپڑوں تک۔ تمام کی تمام وہ اشیاءتھیں جو خصوصاََ اس علاقے کے مقامی لوگ استعمال کرتے تھے ۔انڈین کرنسی کے چند ہزار روپے بھی میرے پاس موجود تھے ۔ضرورت پڑنے پر میں مزید رقم وہاں پر موجود ایک مخصوص شخص سے لے سکتا تھا ۔کرن مہتا کے نام سے میرے پاس شناختی کاغذات بھی موجود تھے جو کہ انبالے کے ایک مضافاتی گاﺅں کا رہائشی تھا ۔
پیدل چلتے ہوئے سر دی کا احساس نہیں ہوتا ۔مجھے بھی مسلسل چلتے ہوئے پسینہ آ گیا تھا۔رات کے وقت اترائی کا سفر پر مشقت تو نہیں لیکن مشکل بہت ہوتا ہے ذرا سی بے احتیاطی سے انسان نیچے لڑھک سکتا ہے اور نیچے لڑھکنے کا مطلب موت ہی ہے کیونکہ اتنی بلندی سے گر کر بچ جانے والاجن بھوت تو ہو سکتا ہے انسان نہیں۔ٹارچ جلانے کا خطرہ میں مول نہیں لے سکتا تھا۔لے دے کے بیسویں کے چاند کی مدہم روشنی میری معاون اور مددگار تھی ۔مجھے اس پہاڑ سے نیچے آتے گھنٹا ،پون گھنٹا لگ گیا ،کیونکہ میں سیدھا نیچے اترنے کے بجائے ترچھا چلتا گیا تھا ۔سیدھا اترنے میں پھسلنے کاخطرہ زیادہ تھا ۔جنوری فروری میں برف جم کر بہت سخت ہو چکی ہوتی ہے ۔اور برفانی تودوں کے گرنے کا خطرہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے ۔ اس کے برعکس اکتوبر نومبر میں چونکہ برف تازہ تازہ پڑی ہوتی ہے اس لیے برفانی تودے زیادہ گرتے ہیں ۔
نالے میں اترتے ہی میں خطرناک علاقے میں پہنچ گیا تھا ۔ سامنے والی پہاڑی پر انڈیا کا بٹالین ہیڈکواٹر موجود تھا ۔گو وہ کافی اونچائی پر تھا لیکن اس کے سامنے نیچے کی طرف اس کی فارورڈ آبزرونگ پوسٹ بھی موجود تھی جو نالے سے قریباََ پچاس ساٹھ گز ہی بلند ہو گی ۔ایسی پوسٹوں پر ڈیوٹی پر موجود سنتری حد سے زیادہ چوکنا ہوتے ہیں ۔خاص کر ہندو تو اس معاملے میں بہت محتاط ہوتے ہیں ڈر کی وجہ سے پوری پوری رات جاگ کر گزار دیتے ہیں ۔اور پھرشب دید عینکوں کی موجودی میں کسی بھی شخص کو دیکھ لینا اتنا مشکل نہیں ہوتا ۔اس ضمن میں تھرمل امیجنگ سائیٹ بہت کارآمد ہے جوحرارت کے اصول پر کام کرتی ہے ۔یہ نہ صرف اندھیرے میں دیکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے بلکہ دوربین کی طرح اس سے لمبے فاصلے تک بھی دیکھا جا سکتا ہے ۔
ان سب سے بڑھ کر خطرہ مجھے پوسٹ پر موجود کتوں سے تھا ۔ ان علاقوں میں ہر پوسٹ پر کتے موجود ہوتے ہیں ،خال ہی کوئی پوسٹ کتوں سے تہی دامن ہوتی ہے ۔اور یہ کتے رکھوالی کا بہت عمدہ ،اعلا ،سستا اور کارآمد ذریعہ ہیں ۔ساری رات نہیں سوتے اور پوسٹ کی حدود میں کسی بھی جنگلی جانور کی آمد پر یا کسی غیر متعلق آدمی کی آمد پر آ سمان سر پر اٹھا لیتے ہیں ۔اور کتوں کے بھونکنے پر سنتری فی الفور شب دید عینک کی مدد سے علاقے کا جائزہ لینا شروع کر دیتے ہیں ۔یہ کتے بعض اوقات کافی دور کی حرکت بھی دیکھ لیتے ہیں اور بھونکتے ہوئے اسی سمت دوڑ پڑتے ہیں ۔انسان کتنا ہی چاق و چوبند اور ہوشیار کیوں نہ ہو ،مسلسل ایک ہی کام کر کے سست پڑ ہی جاتا ہے اور کتوں کا تسلسل سے بھونکنا اسے ہوشیار کرنے کے لیے کافی ہو تا ہے ۔
انھی کتوں کے خوف سے میںفاروڈ آبزرونگ پوسٹ سے مخالف جانب بالکل نالے کی جڑ میں، جھاڑیوں کی آ ڑ لیتا ہوا گزرنے لگا ۔دن کو اپنی پوسٹ سے میں اس علاقے کا اچھی طرح جائزہ لے چکا تھا ۔اس فارورڈ پوسٹ سے کلو میٹر بھر آ گے مجھے چند گھر بھی نظر آئے تھے ۔وہ سول لوگ تھے اوراس علاقے میں زیادہ تر مسلمان ہی آبا د تھے لیکن ان میں جاسوسوں کی موجودی کو نظر آنداز نہیں کیا جا سکتا تھا ، بلکہ کئی بار پاک آرمی مقامی لوگوں کی صورت دھارے انڈین جاسوسوں کو گرفتار کر بھی چکی تھی ۔ان میں کچھ تو انڈین آرمی کے تربیت یافتہ جاسوس تھے اور کچھ ایسے بھی تھے جو روپے پیسے کی لالچ میں آ کر اپنے ضمیر کا سودا کر لیتے تھے ۔انھی میں جاسوسوں کی ایک قسم وہ بھی ہے جو دونوں جانب کی آرمی سے ملے ہوتے ہیں ۔ایسے لوگ پاک آرمی کی کارروائیوں اور حرکت کی خبریں انڈین آرمی تک پہنچا دیتے ہیں اور انڈین آ رمی کی باتیں پاک آرمی تک لے آتے ہیں۔کچھ مقامی اور بے بس لوگوں کوبھی انڈین آرمی بلیک میل کر کے اپنا جاسوس بنا لیتی ہے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں جان ،مال اور عزت و آبرو کے نقصان کی دھمکی دی جا تی ہے۔مختصراََ یہ کہ وہاں کسی مقامی آدمی پر اعتبار کرنا نہایت مشکل ہے۔ سرحد عبور کرنے کے بعدبھی یہ مسئلہ جوں کا توں ہی باقی رہتا ہے ۔کسی بھی شخص پر اعتبار کرنے کے لیے ضروری ہوتاہے کہ اس کے بارے سر حد عبور کرنے والے کسی بھی جاسوس اور میری طرح کسی ہدف کی تلاش میں آئے ہوئے شخص کو پہلے ہی سے مطلع کردیا جائے ،کہ فلاں شخص سے رابطہ کرکے مدد حاصل کی جاسکتی ہے ۔ورنہ اس کے علاوہ کسی پر بھی اعتبار کرنے کی صورت میں پکڑے جانے کاخطرہ بہت زیادہ ہے ۔
مجھے بھی چند مخصوص نام اور ان سے ملنے کے لیے شناختی الفاظ وغیرہ بتا دیے گئے تھے ۔جس آدمی سے میں نے ڈریگنوو رائفل لینا تھی وہ ہندو کا نام اور شناخت دھارے ایک مسلم تھا ۔اس کا نام آدیت ورما تھا ۔اس نے شادی بھی ایک ہندو لڑکی سے کی ہوئی تھی ۔نامعلوم وہ کب سے وہاں موجود تھا ۔ پاکستان سے جانے والے خاص الخاص افراد ہی کو اس کے بارے بتایا جاتا ۔میرے مقصد کو مدنظر رکھ کر مجھے بھی اسی سے ملنے کا حکم دیا گیا تھا ۔

میں نالے میں آگے بڑھتا رہا ۔نالے میں برف موجود نہیں تھی البتہ درمیان میں صاف و شفاف پانی ضرور بہہ رہا تھا ۔پانی کی سطع تو چند انچ سے زیادہ بلند نہیں تھی البتہ چوڑائی میں نالہ سات آٹھ گز سے زیادہ وسیع تھا۔اور اس میں بکھرے ہوئے پتھروں پر پاﺅں رکھ کر بغیر جوتے بھگوئے نالے کو عبور کرنا نہایت آسان تھا ۔نالے میں موجود گھر نسبتاََ بلند جگہ پر واقع تھے ۔تمام گھر نالے میں قدرے دائیں جانب واقع تھے جبکہ انڈین پوسٹیں بائیں جانب واقع تھیں ۔میں ان گھروں سے دو سو گز پہلے ہی وہ نالہ احتیاط سے عبور کر نے لگا۔کیونکہ نالے کے دائیں کنارے حرکت کرنا ممکن نہیں رہا تھا ۔ایسا کرنے کی صورت مجھے ان گھروں کے درمیان سے گزرنا پڑتا ۔اور اس آبادی میں کتوں کی موجودی یقینی تھی ۔ایک اجنبی پر وہ جس غضب ناک انداز میں بھونکتے اس کا اندازہ لگانے کے لیے عقل بیناکی ضرورت نہیں ہے۔
نالے کا پانی پتھروں سے ٹکراتے اور ہلکے پھلکے نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے دھیمی دھیمی سرگوشیاں کر رہا تھا ۔ایسی سرگوشیاں گرمیوں کے موسم میں تو بہت بھلی لگتی ہیں لیکن سردیوں میں یہ خوب صورت شور کپکپی طاری کر دیتا ہے ۔پتھر پانی میں مسلسل پڑے چکنے ہو گئے تھے ۔ان پر پاﺅں جما کر نالہ عبور کرنا تھوڑا دشوار گزار لگا کیونکہ پھسلنے کی صورت میں کپڑے گیلے ہونے کا اندیشہ تھا ۔اور اس علاقے میں موسم بھی کسی کمینے دشمن سے کم نہیں ہے ۔سردی کسی کی جان لیتے وقت مذہب ،ارادہ اور مقصد نہیں پوچھتی بس جو اس کی لپیٹ میں آ جائے اس کا کام نبٹا دیتی ہے ۔
نالہ خیریت سے پار کر کے میں نالے کے بائیں کنارے چلنے لگا ۔مجھے سب سے بڑی سہولت وہاں بکھری ہوئی جھاڑیاں دے رہی تھیں ۔ان کی آڑ لے کر چلتے ہوئے میں دشمن کی نظروں سے اوجھل تھا ۔آگے جا کر وہ نالہ بائیں جانب مڑ رہا تھا ۔اسی جانب تیس پینتیس کلومیٹرکے فاصلے پر اوڑی شہر تھا ۔ میری منزل انبالہ کا شہر تھا ۔کشمیر کی سرحد کے ساتھ جا لندھر واقع تھا اور اس کے بعد انبالہ آتا تھا ۔وہاں تک مجھے اپنی کوشش سے پہنچنا تھا۔ جالندھر اور انبالہ کے بارے اچھی خاصی معلومات یونٹ کے سیکنڈ ان کمانڈ اور پھر استاد نصیرالدین کی وساطت سے مجھے مل چکی تھیں لیکن زبانی کلامی سننے اور عملی طور پر وہاں پہنچنے میں بڑا فرق ہے ۔
نالہ مڑ کر دو تین سو گز آگے مگر بلندی پر انڈیا کی ایک اور پوسٹ تھی جو اسی موڑ کی حفاظت پر مامور تھی ۔میں اس پوسٹ کے نیچے سے ہو کر گزرا ۔وہاں بنی ہوئی پگڈنڈی اس بات کا مظہر تھی کہ وہ رستا مسلسل استعمال میں رہتا تھا ۔ایسے رستے پر چلنا اس لحاظ سے مفید رہتا ہے کہ بارودی سرنگ وغیرہ کا خطرہ نہیں ہوتا۔میں بھی اسی رستے پر ہو لیا ۔وہاں کافی جھاڑیاں پھیلی تھیں ۔اس پوسٹ کی حدود سے میں تھوڑاہی آگے بڑھا ہوں گا کہ اچانک میرے کانوں میں کسی کے بولنے کی آواز پڑی ۔میں نے فوراََ قریبی جھاڑی کی آڑ لی اور اس کے ساتھ ہی نیفے میں اڑسا ہوا پسٹل میں نے ہاتھ میں پکڑ لیا تھا ۔ جھاڑیوں کی وجہ سے دکھاﺅ محدود ہو گیا تھا ۔اگر میرے کانوں میں باتوں کی آواز نہ پڑتی تو یقینا میرا ان بولنے والوں سے آمنا سامنا ہو گیا ہوتا ۔منٹ بھر بعد ہی آواز واضح ہو گئی تھی ۔
”موہن !….تھوڑا آہستہ چلو یا ر!….تاکہ پوسٹ تک پہنچتے ہوئے ہماری ڈیوٹی کا وقت پورا ہو جائے ۔“
”دو تین منٹ آرام کر لیتے ہیں ۔“ایک دوسری آواز سنائی دی ۔
”سجیت کو تو ہر وقت آرام کی پڑی ہوتی ہے ۔“یہ آواز پہلی دونوں آوازوں سے مختلف تھی ۔
”ٹھیک ہی تو کہہ رہا ہوں ۔آہستہ چلنے سے بہتر ہے چند منٹ بیٹھ کر آرام کر لیا جائے ۔“وہ یقینا سجیت تھا ،جو اپنے کہے کا دفاع کر رہا تھا ۔یہ بات کرتے ہوئے وہ میرے سامنے پہنچ گئے تھے ۔میں ان کی تعداد گننے لگا ۔پانچ افراد تھے ۔پانچوں نے اپنے کندھوں سے ہتھیار لٹکائے ہوئے تھے ۔ایک نے اپنی پیٹھ پر بڑا وائرلیس سیٹ بھی باندھا ہوا تھا ۔یقینا یہ ان پٹرولنگ پارٹی تھی ۔کشمیر کی سرحد کو دونوں ممالک پوسٹوں بنا کر محفوظ نہیں رکھ سکتے ۔کیونکہ بڑے بڑے نالے اور پہاڑی علاقے کو زمینی سرحد کی طرح مورچے وغیرہ بنا کر اور کانٹا تار لگا کر اپنے قبضے میں کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے ۔پھر سردیوں میں تو یوں بھی برف اتنی شدید ہوتی ہے کہ کئی کئی فٹ تک علاقے کو ڈھک دیتی ہے اور کانٹا دار تار وغیرہ برف کے اندر دب کر اپنی افادیت کھو دیتی ہے ۔
وہ گپ شپ کرتے میرے سامنے سے گزرتے چلے گئے ۔لیکن وہ زیادہ دور نہیں گئے ہوں گے کہ اچانک ایک جھاڑی سے لومڑ نکل کر بھاگا ۔جھاڑیوں کی حرکت دیکھ کر ایک آدمی چیخا ۔
”یہاں کوئی ہے ۔“
”کوئی جانور ہو گا گنیش!“کسی نے بے پروا انداز میں اسے تسلی دی ۔
”ایک منٹ دیکھ تو لوں ۔“گنیش پیچھے مڑا ۔اس کا رخ اس جھاڑی کی طرف تھا کہ جس کی میں نے آڑ لی ہوئی تھی ۔بد قسمتی سے وہ بد بخت لومڑ بھی اسی جانب کو دوڑا تھا ۔
میں نے غیر محسوس انداز میں پیچھے ہٹنا چاہا مگر دیر ہو گئی تھی۔مجھے پہلے ہی دو تین جھاڑیاں چھوڑ کر چھپنا چاہیے تھا لیکن جلدی میں میں جس جگہ چھپا تھا وہیں بیٹھا رہ گیا تھا ۔میرے خیال میں تو وہ یوں بھی آگے بڑھ رہے تھے اس لیے مزید رستے سے ہٹنے ضرورت نہیں رہی تھی۔اس میں میرا قصور بھی اتنا زیادہ نہیں تھا کہ مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ کوئی لومڑ آخری وقت پر ایسی حرکت کر گزرے گا ۔میں ابھی وہاں سے غائب ہونے کا کوئی طریقہ سوچ ہی رہا تھاکہ ایک دم گنیش جھاڑی کی اوٹ سے نمودار ہوا چاند کی مدہم روشنی سے بڑھ کر گنیش کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی طاقتور ٹارچ نے میرا بھانڈا پھوڑا تھا ۔

”کون ہو تم ؟“اس کے منہ سے خوف اور غصے کی ملی جلی آواز برآمد ہوئی ۔اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے کندھے سے لٹکی کلاشن کوف اتارنے کی کوشش کی ۔
اسے اس کوشش میں کامیاب ہونے دینا اپنی موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے مترادف تھا ۔میں نے بغیردیر کیے ٹریگر دبا دیا ۔میرے پاس سائیلنسر موجود تھامگر اتنا وقت نہیں تھا کہ میں سائیلنسر پستول کی نال پر فٹ کر پاتا۔ماحول دھماکے کی آواز سے گونج اٹھا تھا ۔ دو تین گز کے فاصلے سے چلائی ہوئی گولی کے خطا جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔گو روشن ٹارچ کی وجہ سے مجھے اس کا چہرہ واضح دکھائی نہیں دے رہا تھا لیکن اس کا ہیولہ واضح تھا اور گولی چلانے کے لیے اتنا دکھاﺅ کافی ہوتاہے ۔سر میں لگنے والی گولیوں نے اسے چیخنے کا موقع بھی نہیں دیا تھا ۔میں نے مسلسل دو مرتبہ ٹریگر دبایا تھا ۔اس کے گرتے ہی میں نے قدم بڑھا کر اس کی کلاشن کوف اٹھالی ۔اس کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی ٹارچ کا رخ قدرتی طور پر اس کی طرف ہو گیا تھا ۔اس نے بنڈوریل پہنا ہوا تھا جس کے سامنے مجھے دو ہینڈ گرنیڈ لٹکتے نظر آئے ۔میں نے لگے ہاتھوں وہ گرنیڈ بھی اس کے بنڈوریل سے نکال کر اپنی جیبوں میں دال لیے تھے ۔یہ کرتے ہی میں جھکے جھکے پیچھے بھاگا۔
”گنیش !….گولیاں تم نے چلائی ہیں ؟“سراسیمہ لہجے میں پوچھا گیا ۔ گنیش غریب جواب دینے کی حالت میں ہوتا تو بتاتا ۔
”گنیش !….تم جواب کیوں نہیں دے رہے ؟“اس مرتبہ ایک اور خوفزدہ آواز ابھری ۔
میں اس دوران جھکے جھکے وہاں سے دورہٹنے لگا ۔
”گنیش کو گولی لگ چکی ہے ۔“کسی نے چیختے ہوئے کہا اور اس کے ساتھ ہی اس نے کلاشن کوف کا فائر کھول دیا تھا ۔فضا مسلسل فائرنگ کی آواز سے گونج اٹھی تھی ۔میں بغیر کسی تاخیر کے زمین پر لیٹ گیا اور اسی حالت میں ان سے دور ہٹنے لگا ۔اچانک مجھے خیال آیا کہ اگر میری طرف سے فائر کا جواب نہ دیا گیا تو وہ میرا تعاقب کر سکتے تھے ۔میں نے رک کر کلاشن کوف کاکاکنگ ہینڈل کھینچ کر چھوڑا ۔ ایجکشن سلاٹ کے رستے گولی اڑ کر دور جا گری تھی ۔یقینا رائفل پہلے سے لوڈ تھی اور میرے کاکنگ ہینڈل کھینچنے کی وجہ سے پہلے سے لوڈ شدہ گولی باہر نکل گئی تھی ۔لیکن وہ وقت ایسی باتوں پر غور کرنے کا نہیں تھا ۔میں نے سیفٹی لیور کو سنگل راﺅنڈ فائر کرنے کی حالت پر لگایا اور دو تین فائر داغ دیے ۔اس کے ساتھ ہی میں زوردار آواز میں بولا ۔
”عبداللہ !….فائر مت کرو انھیں زندہ پکڑنا ہے ۔اسامہ !….تم وقاص کے ساتھ دائیں طرف سے جاﺅ ۔حمزہ تمھارے ساتھ ہو گا اور ہارون تم ابو ہریرہ اور خالد کے ساتھ بائیں طرف سے آگے بڑھو ۔“اتنا کہہ کر میں نے بھاری آواز بنا کر کہا ۔”جی کمانڈر!“
اور خود پیچھے مڑ کر جھکے جھکے انداز میں بھاگنے لگا ۔
اس کے ساتھ ہی میرے کانوں میں کسی کا گھبرائی ہوئی آواز میں ”بھاگو ۔“کہنا پڑ چکا تھا ۔ بھاگتے ہوئے انھوں نے چند گولیاں فائر کی تھیں مگر وہ ان کی اضطراری حرکت تھی،تمام گولیاں بغیر نشانہ سادھے اور کسی ہدف کو تاکے بغیر چلائی گئی تھیں ۔ہندو اتنا بہادر نہیں ہے کہ رک کر مجاہدین کا مقابلہ کر سکتا ۔ میں نے بھی جلدی میں ہونے کے باوجود ایسے نام لیے تھے جن سے عموماََ مجاہدین ایک دوسرے کو پکارا کرتے ہیں ۔اور یہ سب سنتے ہی انھوں نے تحقیق کرنے یا کچھ سوچنے سمجھنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔لیکن ان چار بندوں کے بھاگنے سے خطرہ نہیں ٹلا تھا ۔میں انڈیا کی حدود میں داخل ہو گیا تھا ۔اور مجھے یقین تھا کہ انھوں نے بڑے پیمانے پرفرضی مجاہدین کی تلاش کاکام شروع کر دینا ہے ۔

خیر وہ بعد کی بات ہے ۔میں نے دل ہی دل میں خود کو تسلی دی ۔فی الحال وہاں سے غائب ہونا ضروری تھا ۔میں تمام احتیاط بلائے طاق رکھ کر سر پٹ دوڑنے لگا ۔اس علاقے میں موجود نالے بتدریج گہرائی میں اترتے جاتے ہیں ۔ ہلکی ہلکی ڈھلان میں مجھے بھاگنے میں اگر کوئی دقت تھی تو بکھرے ہوئے پتھروں کی وجہ سے تھی ۔ بھاگتے ہوئے ہندوں کے اکا دکا کی فائر کی آواز ابھی تک آ رہی تھی ۔اچانک پورا علاقہ روشنی میں نہا گیا تھا۔ میں فوراََ زمین پر لیٹ کر ساکن ہو گیا ۔نالے پر تعینات پوسٹ سے کسی نے مارٹر گن سے روشنی کا گولہ فائر کیا تھا ۔مارٹر کا روشنی کا گولہ کافی بلندی پرجا کر پھٹتا ہے ۔روشنی کے گولے کے ساتھ چھوٹا سا چھتری نما کپڑا لگا ہوتا ہے اس لیے نیچے گرتے وقت گولہ دھیمی رفتار میں نیچے آتا ہے اور اس دوران اس کی روشنی سے کافی دور تک کے علاقے کی دیکھ بھال کی جا سکتی ہے ۔گولے کی روشنی ختم ہوتے ہی میں ایک بار پھر بھاگ پڑا اس دوران ایک اور گولہ فائر ہوا اس وقت تک میں جھاڑیوں کے ایک گھنے جھنڈ میں داخل ہو گیا تھا ۔اس مرتبہ میں نے رکنے کی کوشش نہیں کی اور آگے بڑھتا گیا۔وہ نالہ آگے جا کر تین شاخوں میں بٹ گیا تھا ۔میں نے بغیر کسی منطقی سوچ کے ایک نالے کا چناﺅ کیا اور آگے بڑھ گیا ۔وہ سوچنے کا وقت نہیں تھا ۔روشنی کے گولے مسلسل فائر ہو رہے تھے ۔اس کے ساتھ ہی ان جھاڑیوں کے جھنڈ پر تواتر سے گولیاں برسائی جانے لگیں۔ وکرس گن سے فائر کیا جا رہا تھا ۔اس کی آواز میں اچھی طرح پہچانتا تھا ۔اور پھر وہاں دو انچ مارٹر کے گولے بھی فائر کیے جانے لگے ۔ جن جھاڑیوں سے میں گزر رہا تھا وہ البتہ دو انچ مارٹر گن کی زد سے باہر تھیں ۔کیونکہ میری معلومات کے مطابق انڈین آرمی کے پاس موجود دو انچ قطر کی مارٹر کا زیادہ سے زیادہ رینج بہ مشکل ساڑھے سو میٹر تھا۔اس کے ساتھ ان کے پاس ساٹھ ایم ایم مارٹرز بھی موجود ہیں جن کا رینج بارہ سو پچاس میٹر ہے ۔ان دونوں مارٹرز کے مار کے علاقے سے تو میں نکل آ یا تھا لیکن اکیاسی ایم ایم مارٹر کہ جس کا رینج پانچ کلومیٹر تھا اس کی رینج میں میں اب بھی آ رہا تھا ۔لیکن اتنی عقل تو بہ ہر حال ان میں بھی موجود تھی کہ کہ اکیاسی ایم ایم مارٹر کے گولے وہ اپنے علاقے میں فائر نہیں کر سکتے تھے ۔ذرا سی بے احتیاطی سے خود ان کی کوئی اپنی پوسٹ بھی فائر کی زد میں آ سکتی تھی ۔(قارئین کی معلومات کے لیے بتاتا چلوں کہ یہاں میں نے انڈین مارٹروں کی رینج وغیرہ لکھی ہے ۔پاکستا ن آرمی کے پاس موجود انھی ناموں کی مارٹروں کی رینج بالکل مختلف ہے )
میرا یہ اندازہ درست ثابت ہوا تھا ۔وہ چھوٹی مارٹروں سے اپنی پوسٹ کے قریب موجود جھاڑیوں ہی میں مارٹر اور وکرس کا فائر کرتے رہے ۔دائیں بائیں کے علاقے میں بھی روشنی کے گولے فائر ہونا شروع ہو گئے تھے ۔یقینا وائرلیس سیٹ سے وہ اپنی دوسری پوسٹوں تک یہ خبر پہنچا چکے تھے ۔یا یہ بھی ہو سکتا تھا کہ اپنی ایک پوسٹ سے فائر ہوتا دیکھ کر دوسروں نے حفظ ماتقدم کے طور پر روشنی کے گولے فائر کرنا شروع کر دیے ہوں ۔
بہ ہر حال کچھ بھی تھا یہ بات یقینی تھی کہ میں بری طرح پھنس چکا تھا ۔لیکن اس کے ساتھ یہ بات بھی شک سے مبرا تھی کہ میں اتنی آسانی سے ہتھیار ڈالنے والوں میں سے نہیں تھا ۔
میں جھاڑیوں کے جنگل سے باہر آ چکا تھا ۔اب دوڑنے کے بجائے میں نے تیز قدموں سے چلنا شروع کر دیا ۔میرا سانس دھونکنی کی مانند چل رہا تھا ۔یوں لگ رہا تھا جیسے پھیپھڑے منہ کے رستے باہر آ گریں گے ۔آ کسیجن کی کمی کی وجہ سے میری یہ حالت ہو رہی تھی ۔میں نے لمحہ بھر ٹھہر کر اپنا سانس قابو میں کیا اور پھر چل پڑا۔وقفے وقفے سے فائرنگ کی آواز میرے کانوں میں پڑ رہی تھی ۔میرا اندازہ تھا کہ جلد ہی انھوں نے علاقے کی تلاشی کے لیے اپنی پارٹیاں نکال دینا تھیں ۔اس وقت تک میں اس علاقے سے جتنا دور نکل جاتا اتنا بہتر تھا ۔
اچانک مجھ سے چند سو گز آگے روشنی کا گولافائر ہوا ۔بغیر کسی شبے وہ اکیاسی ایم ایم مارٹر کا گولہ تھا کیونکہ یہ اس سے پہلے فائر ہونے والے گولوں سے حجم میں بڑا تھا اور اس کی روشنی بھی زیادہ تھی ۔

میں فوراََ نیچے لیٹ کر ساکن ہو گیا ۔اس کی روشنی میں دور دور تک کسی بھی چیز کی حرکت کو دیکھا جا سکتا ہے ۔نیچے لیٹ کر میں بھی اس گولے کی روشنی سے مستفید ہونے لگا ۔حد نگاہ تک نظر آنے والے علاقے کا میں نے اچھی طرح جائزہ لے لیا تھا ۔دوسرے گولے کے فائر ہونے سے پہلے میں اٹھ کر آگے بڑھ گیا ۔آگے وہ نالہ مزید دو حصوں میں منقسم ہو گیا تھا ۔جس سمت پوسٹ موجود تھی میں نے اسی سمت سفر جاری رکھا ۔دوسرے نالے میں لازماََ آگے جا کردوسری پوسٹ موجود ہونا تھی ۔اور نامعلوم وہاں سے اس کا فاصلہ کتنا تھا ۔جبکہ اس پوسٹ کے علاقے کو عبور کرنے کے بعد آگے چند کلومیٹر تک میں دوسری پوسٹ کے درد سر سے بچ سکتا تھا ۔پوسٹ چونکہ دو تین سو گز دور ڈھلان پر واقع تھی اس لیے میں پتھروں کی آڑ لے کر آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگا ۔پوسٹ اور میرے درمیان کسی بڑی چٹان آنے کی صورت میں میں وہ فاصلہ بھاگ کر طے کرتا ۔اور اس کے بر عکس ہونے کی صورت میں زمین پر لیٹ کر رینگنے لگتا ۔ اچانک کلاشن کوف گرجی ،گولیوں کی بوچھا ڑ اسی سمت آئی تھی جہاں میں موجود تھا ۔بلا شک و شبہ شب دید آلات میں میری حرکت نظر آ گئی تھی ۔اب اس سمت سفر جاری رکھنا بے وقوفی تھی ۔میں فوراََ پچیس تیس گز دور نالہ موڑ کی طرف بڑھا ۔لیکن زمین سے اٹھنے کی غلطی میں نے نہیں کی تھی ۔چند قدم دور پتھر کی ایک بہت بڑی چٹان موجود تھی اس کی آڑ لے کر میں اس نالے میں گھس سکتا تھا جس میں داخل ہونا میں نے پہلے نا مناسب سمجھا ۔چٹان کی آڑ میسر آتے ہی میں سر پٹ بھاگا ۔اس وقت روشنی کا گولہ فائر ہوا ۔لیکن روشنی پھیلتے تک میں دوسرے نالے میں مڑ کر اوجھل ہو گیا تھا ۔اب میں نے پھر بھاگنا شروع کر دیا تھا ۔ موڑ کے سر ے کی طرف مجھے مسلسل فائر کی گونج سنائی دیتی رہی ۔میں دائیں بائیں دیکھتا آگے بڑھتا رہا ۔ اس جگہ میرے نظر آ نے کا مطلب یہ تھا کہ میرا پچھلا سفر بے کار گزرا تھا ۔دشمن میرے سفر کی سمت کو جان چکا تھا۔ اس کے ساتھ میں کتنا سفر کر چکا تھا یہ بھی اسے معلوم ہو گیا تھا ۔ہو سکتا ہے انھیں میرے اکیلا ہونے کے بارے بھی معلوم ہو گیا ہو کیونکہ جس آخری پوسٹ کے قریب میری حرکت دیکھی گئی تھی لازماََ انھیں صرف ایک آدمی ہی نظر آیا ہوگا ۔گو یہ حتمی بات نہیں تھی ۔وہ یہ بھی سوچ سکتے تھے کہ وہ فرضی مجاہدین مختلف سمتوں میں فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
قدموں کی رفتار سے زیادہ میری سوچیں مختلف قسم کے مفروضوں میں الجھی ہوئی تھیں ۔پاﺅں جلد از جلداس جگہ سے دور ہونے میں میری مدد کر رہے تھے اور دماغ کوئی بہتر حل سوچنے میں مسلسل سرگرداں تھا ۔موڑ سے تھوڑا دور آنے پر گھنی جھاڑیاں اور درخت شروع ہو گئے تھے ۔درختوں کی وجہ سے چاند کی روشنی بھی کا رآمد نہیں رہی تھی ۔لیکن میری مجبوری یہ تھی کہ میں ٹارچ جلانے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا ۔ٹارچ کی روشنی بہت دور سے نظر آ جاتی ہے اور ایسی حالت میں کہ دشمن میری موجودی سے با خبر تھا ٹارچ روشن کرنا ۔”آ بیل مجھے مار ۔“کی کہاوت کا عملی ثبوت دینا تھا ۔
میں ٹھوکریں کھاتا جھاڑیوں سے الجھتا آگے بڑھتا رہا ۔رکنے کا خطرہ میں کسی صورت مول نہیں لے سکتا تھا ۔مجھے علم تھا کہ صح پہلی روشنی کے ساتھ ہی یہ سارا علاقہ انڈین آرمی نے گھیر لینا تھا ۔ایسا کرنا ان کے لیے اس لیے بھی آ سان تھا کہ وہاں چاروں اطراف ان کی پوسٹیں پھیلی ہوئی تھیں ۔اپنی پوسٹوں کی آدھی نفری ہی نیچے نالوں میں تعینات کرنے سے وہ آنے جانے کے زیادہ تر رستے بند کر سکتے تھے ۔ایسا ہونے کی صورت میں میں لمبے عرصے کے لیے محبوس ہو جاتا ۔میرے پاس اتنا راشن موجود نہیں تھا کہ میں زیادہ وقت کسی پوشیدہ مقام پر گزار سکتا ۔یوں بھی سردی کی وجہ سے رضائی کے بغیر رات گزارنا ناممکن نہیں تو مشکل ترین ضرور تھا ۔اور ایسا بھی میں اپنے پاس موجود گرم کپڑوں کی بنا پر کہہ رہا ہوں ورنہ اس سردی میں رات گزارنا عزرائیل ؑ سے معانقہ کرنے کے مترادف تھا ۔
انھی سوچوں میں الجھا میں لمبے قدم اٹھاتا آ گے روانہ تھا ۔اس نالے میں نہ تو کوئی موڑ آیا تھا اور نہ کہیں نالے کی ذیلی شاخ نظر آئی تھی ۔دائیں بائیں کی چڑھائیاں بھی کافی دشوار گزار تھیں ۔اور رات کی وجہ سے تو وہ چڑھائیاں اور بھی سخت اور دشوار گزار نظر آ رہی تھیں ۔
اچانک مجھے ٹھٹھک کر رک جانا پڑا ۔ہوا کے دوش پر وائرلیس سیٹ کے سپیکر سے نکلتی آواز میرے لیے کسی دھماکے سے کم نہیں تھی ۔ایک دم نیچے بیٹھ کر میں نے اپنے کان آواز کی سمت لگادیے ۔

آواز اتنی واضح نہیں تھی میں ان کی بات سمجھ پاتا ۔
میں بیٹھے بیٹھے ہی اس سمت کو بڑھنے لگا ۔جلد ہی واضح آواز میرے کانوں میں آنے لگی تھی ۔ یقینا وائرلیس سیٹ والے نے آواز کو دھیما رکھا ہوا تھا لیکن رات کے سناٹے میں پھر بھی کافی دور تک آواز جا رہی تھی ۔
”نہیں ۔اور بندوں کی ضرورت نہیں ہے ۔اتنے ہی کافی ہیں،اوور۔“میری سماعتوں میں پہلا مکمل فقرہ پڑا تھا ۔
”ٹھیک ہے سر !….ہم تیار بیٹھے ہیں ،اوور۔“وہاں موجود آدمی نے نسبتاََ دھیمے لہجے میں جوب دیا تھا ۔(وائرلیس سیٹ کی سب سے بڑی خامی یہی ہے کہ اس پر بات چیت کرتے وقت اونچی آواز سے بات کرنا پڑتی ہے ۔اس طرح دوسری طرف سے آنے والی آواز بھی اچھی خاصٰ بلند ہوتی ہے ۔اور آواز کے کم ترین درجے میں بھی ،موبائل فون کے سپیکر آن ہونے جتنی آواز ضرور سنائی دیتی ہے ۔لیکن اس وقت وائرلیس سیٹ کی وہ خامی میرے لیے رحمت کا باعث بنی تھی ۔شہری علاقوں میں آپریشن وغیرہ کرنے کے لیے اب وائرلیس کے ساتھ ایئر فون کا استعمال کیا جاتا ہے ۔اس وجہ سے دوسری طرف سے آنے والی آواز کو فقط استعمال کرنے والا ہی سن سکتا ہے )
”اور ضروری نہیں کہ ایک بندہ ہو ۔ایک بندہ تو ہمیں نظر آیا ہے ۔ہو سکتا ہے زیادہ افراد ہوں۔ ہم پیچھے سے آ رہے ہیں ۔تم نے آگے گزرنے نہیں دینا ۔اور جنگل سے باہر گھات لگانی ہے ۔ دوسری صورت میں وہ درختوں کی آڑ وغیرہ لے کر نکل بھی سکتے ہیں ،اوور۔“دوسری جانب دی جانے والی تمام ہدایات مجھے بغیر کسی دشواری کے سنائی دے گئی تھیں ۔
”ہم جنگل کے سرے ہی پر موجود ہیں سر !….اوور۔“
”ٹھیک ہے وہیں انتظار کرو آگے نہیں آنا ۔اور اپنے آدمیوں کو آڑ میں رکھنا ہے یہ نہ ہوہماری طرف سے چلائی گئی گولیوں کا نشانہ اپنے آدمی بن جائیں اوور۔“
”ہم مختلف پتھروں اور چٹانوں کی آڑ میں ہیں سر !اوور۔“
”کیپ لسننگ ،اوور اینڈ آل ۔“دوسری جانب کی آواز آنا بند ہو گئی تھی ۔
میں چوہے دان میں پھنس گیا تھا۔”آگے دریا، پیچھے کھائی ۔“والی مثال اس وقت سو فیصد مجھ پر منطبق ہو رہی تھی ۔میرے تعاقب میں آنے والوں کی تعداد دس بارہ سے زیادہ ہی ہونا تھی ۔اسی طرح سامنے بھی اتنے آدمی تو لازمی طور پر موجود ہونا تھے ۔ایسی صورت میں میرا بچ جانا ایک کرامت ہی ہوتی ۔
لیکن میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا نہیں رہ سکتا تھا ۔میں نے فیصلہ کرنے میں چندمنٹ سے زیادہ وقت نہیں لگایا تھا ۔حتمی فیصلے پر پہنچتے ہی میرے قدم چڑھائی کی طرف اٹھنے لگے ۔چڑھائی کا سفر یوں بھی بہت مشکل ہوتا ہے اور وہ چڑھائی تو بہت دشوار گزار تھی ۔ وہ پہاڑی عبور کر کے اگر میں دوسری جانب اتر جاتا تو کسی محفوظ مقام تک پہنچ سکتا تھا ۔درختوں اور جھاڑیوں کی آڑ نے زیادہ دیر تک میرا ساتھ نہیں دیا تھا ۔درختوں کی آڑ سے نکلتے ہی چڑھائی مزید سخت ہو گئی تھی ۔پہلے تو میں اوپر چڑھنے کے لیے جھاڑیوں وغیرہ کی مدد لے رہا تھا ،لیکن اب ایسی کوئی چیز موجود نہیں تھی جس کا سہارا لے کر میں اوپر چڑھتا۔ کلاشن کوف کی سلنگ میں نے سر سے گزار کرکلاشن کوف پیٹھ پیچھے لٹکا لی تھی ۔پہاڑی علاقہ عبور کرنے تک میں اس کلاشن کوف کوپھینکنا نہیں چاہتا تھا ۔ہاتھوں کی مددسے پتھر کے باہر کو نکلے ہوئے نوکیلے سرے پکڑ کر میں نے آہستہ آہستہ اوپر کھسکنا شروع کر دیا ۔اگر میرا ہاتھ پھسل جاتا تو میرا بچنا محال تھا۔میں درختوں کی آڑ سے نکل کر چند گز ہی اوپر چڑھا ہوں گا کہ میری سماعتوں میں کلاشن کوف کے برسٹ کی آواز گونجی ۔
”چل بھئی شانی !….تمھارا وقت تو پورا ہوا ۔“میں خود کلامی کے انداز میں بڑبڑایا ۔
اسی وقت دو تین اور برسٹ چلائے گئے ۔لیکن کوئی بھی گولی مجھے نہیں چھو سکی تھی ۔میں نے نیچے کی طرف نظر دوڑائی ۔اسی وقت ایک اور کلاشن کوف گرجی ۔آواز کی سمت کا اندازہ کرتے ہی میرا رکا ہواسانس اطمینان بھرے انداز میں خارج ہوا ۔میری تلاش میں سرگرداں دشمن گھنی جھاڑیوں اور شک والی جگہ پر اپنا ایمونیشن پھونک رہا تھا ۔
میں نے دوبارہ اپنا سفر شروع کر دیا ۔دشوار گزار چٹان پر چڑھ کر آگے پچاس ساٹھ قدموں کا سفرپہلی چٹان کی نسبت آسان تھا ۔وہاں برف بھی بکھری پڑی تھی ۔میں آگے کو جھک کر بلندی سر کرنے لگا۔ فائر کی آواز آنا بند ہو گئی تھی ۔میرے قدموں میں تیزی آ گئی تھی ۔کیونکہ کہ مجھے جنگل میں نہ پا کر ان کا خیال دائیں یا بائیں موجود بلندی کی طرف جا سکتا تھا ۔گو چڑھائی بہت دشوار گزار تھی ۔لیکن جہاں تک درختوں کی حدود موجود تھی وہاں تک مجھے ڈھونڈنے کے لیے وہ آ سکتے تھے ۔
جلد ہی میرے اندیشوں نے حقیقت کا روپ دھار لیا تھا ۔اس مرتبہ پہاڑی کے قریباََ درمیان میں کلاشن کوف کا برسٹ چلایا گیا تھا ۔اس وقت تک میں نے آسان رستا طے کر لیا تھا ۔آگے پھر کھڑی چٹان تھی ۔اس چٹان کی جڑ میں میں آگے بڑھنے لگا تاکہ کہیں بھی ایسی جگہ نظر آئے جہاں سے اوپر جانا ممکن ہو سکے تو کوشش کروں ۔مجھے زیادہ دور نہیں جانا پڑا تھا ۔گو وہ جگہ بھی ایسی تھی کہ عام حالات میں اس پر پاﺅں دھرنے کی جرّات میں خود بھی نہ کرتا ۔لیکن اس وقت میری جان پر بنی ہوئی تھی اور جب معاملہ آر پار والا ہو تو بڑے بڑے خطرے مول لے لیے جاتے ہیں ۔
جیب سے مضبوط اور تیز دھار خنجر نکال کر میں نے منہ میں پکڑ لیا تھا ۔کیونکہ بعض جگہوں پر ہاتھ پکڑنے کے لیے کوئی نوکیلی جگہ یا دراڑ نہ ملتی تو میں اس خنجر کو کسی تنگ درز میں گھسا کر ہلکا سا آسرا حاصل کرتا ۔سات آٹھ گز کی اس چٹان کو سر کرتے مجھے دانتوں پسینا آ گیا تھا ۔اپنی پکڑ مضبوط رکھنے کے لیے میں نے دستانے اتار کر جیب میں ڈال لیے تھے ۔اور اس وقت یوں لگ رہا تھا جیسے میرے ہاتھ میرے جسم کا حصہ نہ ہوں ۔سرد چٹان کے مسلسل لمس نے میرے ہاتھوں میں اینٹھن شروع کر دی تھی ۔چٹان پر چڑھتے ہی میں نے ہاتھوں کو آپس میں زور زور سے رگڑنے لگا ۔منٹ بھر یہ وظیفہ جاری رکھنے کے بعد میں نے جیب میں رکھے گرم دستانے نکال کر پہن لیے ۔اس کے بعد پہاڑی کی چوٹی تک کوئی ایسی جگہ موجود نہیں تھی کہ مجھے دستانے اتارنے کی ضرورت پڑتی ۔تیس پینتیس قدموں کا سفر طے کر کے میں اوپر پہنچا ۔تلاش کرنے والی پارٹیاں پہاڑ کی اس بلندی تک پہنچ گئی تھیں جہاں درختوں کا سلسلہ ختم ہو رہا تھا ۔ اس کا اندازہ مجھے ان کے کسی جھاڑی پر فائر کرنے سے ہوا ۔وہاں پر میں ان پارٹیوں کی کارروائی سے بالکل محفوظ تھا ۔کیونکہ جس چٹان کو سر کر کے میں اوپر چڑھا تھا ۔اسے عام حالات میں سر کرنے کے لیے کوہ پیمائی کے سامان کا ہونا ضروری تھا ۔میں نے بھی بس جان کا خطرہ مول لیتے ہوئے اسے عبور کرنے کی کوشش کی تھی ۔کہ اس کو عبور نہ کرنے کی صورت میںبھی میرے لیے موت ہی تھی ۔اور کوشش کر کے مرنا ،ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے سے کہیں بہتر ہے ۔اس طرح کم از کم دل میں کوئی حسرت تو باقی نہیں ہوتی ۔سکائی لائن سے نیچے ہو کر میں پہاڑ کی بلندی ہی پر آگے بڑھ گیا ۔(کچھ قارئین کی سمجھ میں شاید سکائی لائن کی بات نہ پڑی ہو ۔ان کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ کسی ایسی جگہ پر حرکت کرنا جہاں آدمی کے پس منظر میں کوئی چیز موجود نہ ہو ایسی صورت میں اس آدمی کی حرکت دور سے بھی آسانی سے دیکھی جا سکتی ہے )
میری حرکت کنسرٹینا وائر (لچھے دار کانٹا دار تار)کو دیکھ کر رکی ۔تار کی موجود یہ بتانے کے لیے کافی تھی کہ وہاں سے سو دو سو گز کے فاصلے پر انڈیا کی کوئی پوسٹ موجود تھی ۔حالات جس قسم کے بن چکے تھے ان میں پوسٹ کے لوگوں کو غافل سمجھنا ایک حماقت ہی تھی ۔ کنسرٹینا وائر آدھے سے زیادہ برف میں چھپی ہوئی تھی ۔اور اسے عبور کرنا چنداں دشوار نہیں تھا ۔لیکن میں پوسٹ کے قریب جانے کی ہمت نہیں کر سکتا تھا ۔میں دائیں جانب سے اس پہاڑی پر چڑھا تھا ۔کنسرٹینا وائر کے ساتھ ساتھ ہی میں بائیں جانب نیچے اترنے لگا ۔بارودی سرنگی قطعے کو عموماََ باربرڈ وائر (سیدھی کانٹادار)لگا کر ظاہر کیا جاتا ہے ۔گو ہندو جس گھٹیا ذہنیت کا مالک ہے اس سے یہ بعید ہے کہ وہ جینوا معاہدے کے مطابق بارودی سرنگی قطعے کی نشان دہی باربرڈ وائر سے کرے ۔لیکن یہ ان کی فارورڈ پوسٹ نہیں تھی ۔یہاں دشمن کے لیے نہیں تو اپنے آدمیوں کی نشان دہی کے لیے اسے بارودی سرنگی قطعے کی نشان دہی کرنا ضروری تھا ۔اس کے علاوہ کئی کئی فٹ پڑی برف بھی عارضی طور پر بارودی سرنگوں کو ناکارہ کر دیتی ہے ۔کیونکہ برف کی موٹی تہہ کی وجہ سے بارودی سرنگ پر مطلوبہ دباﺅ نہیں پڑتا اور دباﺅ نہ پڑنے کی صورت میں بارودی سرنگ نہیں پھٹتی ۔
میں تار سے باہر رہ کر نیچے اترنے لگا ۔دوسری جانب بھی اترائی کافی دشوار تھی لیکن اتنی نہیں کہ میری حرکت رک سکتی ۔تھوڑا سا نیچے ہوتے ہی اکا دکا درخت اور جھاڑیاں شروع ہو گئی تھیں ۔میں نے مکمل نالے میں اترے بغیر پہاڑی کے درمیان میں رہتے ہوئے آگے کا سفر شروع کر دیا ۔گھڑی پر نگاہ دوڑانے پر مجھے صبح کے تین بجتے نظر آئے ۔میں نے دس بجے اپنا سفر شروع کیا تھا ۔گویا مجھے مسلسل حرکت کرتے پانچ گھنٹے گزر چکے تھے ۔روشنی پھیلنے میں دو اڑھائی گھنٹے رہ گئے تھے اور اس مختصر وقت میں مجھے کسی محفوظ مقام پر پہنچنا ضروری تھا ۔اچانک میرے کانوں میں شدید فائرنگ کی آواز آئی ۔تین چار کلاشن کوفیں اکٹھی ہی گرج رہی تھیں ۔شاید کسی جنگلی جانور کی کم بختی آئی تھی ۔فائر کا دورانیہ کچھ زیادہ نہیں رہا تھا۔ جلد ہی فائر رک گیا تھا ۔گویا میرا اندازہ صحیح تھا کہ کسی گیدڑ یا لومڑ وغیرہ کی حرکت کے باعث جھاڑیاں ہلی تھیں اور بہادر بنیے نے فائر کھولنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔
میں نے حفظ ما تقدم کے طور پر پسٹل کی نال پر سائیلنسر بھی چڑھا دیا تھا ۔تھوڑا آگے بڑھتے ہی مجھے بائیں طرف کافی دور روشنی کے دو تین گولے بلند ہوتے دکھائی دیے ۔لیکن وہ وہاں سے کافی فاصلے پر تھے ۔

تھوڑی سی دبی ہوئی جگہ آئی ۔گویا کہ کوئی چھوٹا سا نالہ ہو ۔مجھے اچھی خاصی پیاس محسو س ہورہی تھی ۔ اس دبی جگہ میں چشمے کی موجودی یقینی تھی ۔اور بدقسمتی یہ تھی کہ برف نے چشمے کو اپنے نیچے دبایا ہوا تھا ۔ نالے میں اتر کر مجھے پانی ضرورمل جاتا،لیکن صرف پانی کے حصول کے لیے نالے میں اترنا مجھے کب گوارا ہو سکتا تھا ۔ایک اچھے سنائپر میں اس سے کئی گنا زیادہ پیاس بھی برداشت کرنے کا حوصلہ موجود ہوتا ہے ۔میں ایک اچھاسنائپر ہوں یا نہیں اس بارے تو میں کچھ نہیں کہتا البتہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مجھ میں بھوک پیاس کو برداشت کرنے کامادہ وافر مقدار میں موجود ہے۔
میں اسی سیدھائی میں چلتا رہا ۔روشنی ہونے کے خوف نے مجھے رفتار بڑھانے پر مجبور کر دیا تھا۔
میری بدقسمتی کہ درختوں کی حد اچانک ختم ہوئی ۔اس کے بعد درختوں کے کٹے ہوئے تنوں نے مجھے چوکنا کر دیا تھا ۔وہاں سے درخت اور جھاڑیاں کاٹنے کا مقصد یہی تھا کہ قریب کوئی پوسٹ موجود تھی ۔اس علاقے میں درختوں کی کٹائی تین مقصد سے کی جاتی ہے ۔مورچوں اور رہائشی بنکرز کی تعمیر کے لیے ۔جلانے کے لیے اور فیلڈ آف صاف کرنے کے لیے ۔اور وہاں مجھے موخّر الذکر بات صحیح لگی کیونکہ درخت بہت زیادہ تعداد کاٹے گئے تھے اور زیادہ تر درختوں کے خشک تنے وہیں موجود تھے ۔
درختوں کی آڑ سے باہر آنے کے بجائے میں نیچے نالے میں اترنے لگا ۔تھوڑا سااترتے ہی مجھے اپنے سفر کرنے کی سمت ہلکی سی روشنی دکھائی دی ۔وہاں ایک اور پوسٹ موجود تھی ۔میں درختوں کی آڑ لے کر نیچے اترتا رہا ۔نیچے اترتے ہوئے میری کوشش تھی کہ جھاڑیوں اور پتھروں وغیرہ کا شور نہ ہو ۔زیادہ تر پتھر تو برف میں دب گئے تھے لیکن جس جس جگہ برف ہٹ گئی تھی وہاں بہ ہر حال یہ خطرہ موجود تھا ۔ اورکھڑی ڈھلان میں یوں بھی برف جلد ختم ہوجاتی ہے ۔میں پندرہ بیس منٹ میں نیچے پہنچ گیا تھا ۔یہ نالا دوسرے نالوں کی نسبت تنگ تھا ۔پانی کے ہلکے شور نے مجھے پیاس کا احساس دلایا اور میںدستانے اتار کر اوک سے پانی پینے لگا ۔پانی کافی ٹھنڈا تھا ۔اس علاقے میں ایسے کافی چشمے مل جاتے ہیں جن کا پانی بہت گرم ہوتا ہے ۔لیکن وہ نالے کا پانی تھا اس میں مختلف چشموں کے پانی کے ساتھ پگھلی ہوئی برف کا پانی بھی شامل تھا ۔
پانی پی کر میں نے جھولے سے پلاسٹک کی واٹر بوتل نکال کربھر ی اور نالے کی جڑ میں دبے قدموں آ گے بڑھنے لگا ۔پانچ چھے سو گز کا علاقہ میرے لیے بہت خطرناک تھا ۔کسی محفوظ مقام تک پہنچنے کے لیے اس پوسٹ کا علاقہ عبور کرنا ناگزیر ہو گیا تھا ۔ روشنی ہوتے ہی دوسری طرف کے نالے میں موجود،میری تلاش میں سر گرداں افراد کو میرے فرار کی سمت معلوم ہو سکتی تھی ۔پچاس ساٹھ گز کا علاقہ ایسا تھا جہاں میں پیدل چل کر آیا تھا ۔گو وہاں برف قدرے سخت تھی اور میرے پاﺅں اس میں دھنسے نہیں تھے ۔لیکن قریب سے دیکھنے پر ایسے نشان ضرور نظر آ جاتے جس سے انھیں معلوم ہو جاتا کہ میں اس رستے سے بھاگا ہوں ۔
وہ پوسٹ نالے سے پچاس ساٹھ گز ہی اوپر بنائی گئی تھی ۔چاند پہاڑ کے پیچھے غائب ہو گیا تھا۔ رات کے اندھیرے کے ساتھ درختوں کے گھنے پتے اور نالے کے تنگ ہونے کی وجہ سے دائیں بائیں موجودپہاڑکی ڈھلانیں اندھیرے میں اضافہ کر رہی تھیں ۔میں کافی دیرسے اندھیرے میں چل رہا تھا لیکن اس کے باوجودبہ مشکل دو تین گز کے فاصلے پرموجودبڑی چٹان یا درختوں کے تنوں کا ہیولہ وغیرہ ہی دیکھ پا رہا تھا ۔سنتری بھی مجھے ٹارچ جلا کر یا شبِ دید عینک ہی کی مدد سے دیکھ سکتا تھا دوسری صورت میں مجھے نہیں دیکھا جا سکتا تھا ۔
اسی طرح احتیاط سے آگے بڑھتے ہوئے میں ایسی جگہ پہنچ گیا تھا جہاں سے مجھے پوسٹ کی ہلکی سی روشنی دکھائی دینے لگی تھی ۔بیس قدم مزید لے کر میں نے پوسٹ کے متوازی آ جانا تھا ۔اور پھر اس سے آگے میں تیزی سے سفر کر سکتا تھا ۔میں مزید نالے کی جڑ میں ہو کر آگے بڑھا ۔اچانک میرا پاﺅں کسی چیز میں الجھا ۔میں کسی جھاڑی کی ٹہنی سمجھتے ہوئے پاﺅں کو جھٹکا دیا ۔میرا پاﺅں آزاد ہوا اور اگلے ہی لمحے پورا ماحول روشنی سے نہا گیا تھا ۔میں بغیر کسی تاخیر کے نالے کی جڑ میں لیٹ گیا ۔میں دشمن کے جال میں پھنس چکا تھا ۔ نالے کی تنگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انھوں نے وہاں ٹرپ فلیئر لگا دی تھی ۔یہ ایک باریک سی تار ہوتی ہے جو کسی بھی رستے پر یوں لگائی جاتی ہے کہ آتے ہوئے دشمن کا پاﺅں الجھنے پر تار کٹ جائے ۔ تار کٹتے ہی ٹرپ فلیئر ایک لمحے میں جل جاتا ہے اور سارا ماحول روشنی سے نہا جاتا ہے ۔ٹرپ فلیئر استعمال کرنے والوں نے ایسی جگہ پر پہلے سے اپنے خود کار ہتھیارفکس کیے ہوتے ہیں ۔ ٹرپ فلیئر کے جلتے ہی ہتھیاروں کے قریب موجود سنتری فائر کھول دیتا ہے ۔
اس وقت بھی یہی ہوا تھا ۔ٹرپ فلیئر کے جلتے ہی وکرس گن کا فائر مسلسل وہاں آنے لگا اس کے ساتھ ہی انھوں نے نعرے لگاتے ہوئے کلاشن کوفوں کے دہانے بھی کھول دیے تھے ۔مجھ پر جیسے قیامت ٹوٹ پڑ ی تھی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *